پر اس ستم سے بامزہ لطف و کرم نہیں

دیوان پنجم غزل 1692
ہر چند میرے حق میں کب اس کا ستم نہیں
پر اس ستم سے بامزہ لطف و کرم نہیں
درویش جو ہوئے تو گیا اعتبار سب
اب قابل اعتماد کے قول و قسم نہیں
حیرت میں سکتے سے بھی مرا حال ہے پرے
آئینہ رکھ کے سامنے دیکھا تو دم نہیں
مستغنی کس قدر ہیں فقیروں کے حال سے
یاں بار غم سے خم ہوئے واں بھوویں خم نہیں
شاید جگر کا کام تمامی کو کھنچ گیا
یا لوہو روتے رہتے تھے یا چشم نم نہیں
غم اس کا کچھ نہیں ہمیں گو لوگ کچھ کہیں
یہ التفات ان نے جو کی ہے سو کم نہیں
کہنے لگا کہ میر تمھیں بیچوں گا کہیں
تم دیکھیو نہ کہیو غلام اس کے ہم نہیں
میر تقی میر