پر اتنا بھی ظالم نہ رسوا ہوا تھا

دیوان اول غزل 137
ترے عشق میں آگے سودا ہوا تھا
پر اتنا بھی ظالم نہ رسوا ہوا تھا
خزاں التفات اس پہ کرتی بجا تھی
یہ غنچہ چمن میں ابھی وا ہوا تھا
کہاں تھا تو اس طور آنے سے میرے
گلی میں تری کل تماشا ہوا تھا
گئی ہوتی سر آبلوں کے پہ ہوئی خیر
بڑا قضیہ خاروں سے برپا ہوا تھا
گریباں سے تب ہاتھ اٹھایا تھا میں نے
مری اور دامان صحرا ہوا تھا
زہے طالع اے میر ان نے یہ پوچھا
کہاں تھا تو اب تک تجھے کیا ہوا تھا
میر تقی میر