پتھر تلے کا ہاتھ ہی اپنا نکالتا

دیوان اول غزل 19
فرہاد ہاتھ تیشے پہ ٹک رہ کے ڈالتا
پتھر تلے کا ہاتھ ہی اپنا نکالتا
بگڑا اگر وہ شوخ تو سنیو کہ رہ گیا
خورشید اپنی تیغ و سپر ہی سنبھالتا
یہ سر تبھی سے گوے ہے میدان عشق کا
پھرتا تھا جن دنوں میں تو گیندیں اچھالتا
بن سر کے پھوڑے بنتی نہ تھی کوہکن کے تیں
خسرو سے سنگ سینہ کو کس طور ٹالتا
چھاتی سے ایک بار لگاتا جو وہ تو میر
برسوں یہ زخم سینے کا ہم کو نہ سالتا
میر تقی میر