پامال ہو گئے تو نہ جانا کہ کیا ہوئے

دیوان اول غزل 498
یاں سرکشاں جو صاحب تاج و لوا ہوئے
پامال ہو گئے تو نہ جانا کہ کیا ہوئے
دیکھی نہ ایک چشمک گل بھی چمن میں آہ
ہم آخر بہار قفس سے رہا ہوئے
پچھتائوگے بہت جو گئے ہم جہان سے
آدم کی قدر ہوتی ہے ظاہر جدا ہوئے
تجھ بن دماغ صحبت اہل چمن نہ تھا
گل وا ہوئے ہزار ولے ہم نہ وا ہوئے
سر دے کے میر ہم نے فراغت کی عشق میں
ذمے ہمارے بوجھ تھا بارے ادا ہوئے
میر تقی میر