پاس تو ہے جس کے وے ہی کل کہیں گے دور ہو

دیوان پنجم غزل 1705
اپنے حسن رفتنی پر آج مت مغرور ہو
پاس تو ہے جس کے وے ہی کل کہیں گے دور ہو
دیکھ کر وہ راہ چلتا ہی نہیں ٹک ورنہ ہم
پائوں اس کے آنکھوں پر رکھ لیویں جو منظور ہو
شہر دل کی کیا خرابی کا بیاں باہم کریں
اس کو ویرانہ نہ کہیے جو کبھو معمور ہو
ہم بغل اس سنگ دل سے کاشکے اس دم ہوں جب
شیشۂ مے پاس ہووے اور وہ مخمور ہو
عشق دلکش ذبح ہے پر کھیل قدرت کا ہے میر
صرف کریے اس میں اپنا جس قدر مقدور ہو
میر تقی میر