پائوں کا رکھنا گرچہ ادھر کو عار سے ہے پر آئو تم

دیوان چہارم غزل 1436
صبر کیا جاتا نہیں ہم سے رہ کے جدا نہ ستائو تم
پائوں کا رکھنا گرچہ ادھر کو عار سے ہے پر آئو تم
جس کے تئیں پروا ہو کسو کی آنا جانا اس کا ہے
نیک ہو یا بد حال ہمارا تم کو کیا ہے جائو تم
چپ ہیں کچھ جو نہیں کہتے ہم کار عشق کے حیراں ہیں
سوچو حال ہمارا ٹک تو بات کی تہ کو پائو تم
میر کو وحشت ہے گی قیامت واہی تباہی بکتے ہیں
حرف و حکایت کیا مجنوں کی دل میں کچھ مت لائو تم
میر تقی میر