ٹھہرائو سا ہو جاتا یوں جی نہ چلا جاتا

دیوان چہارم غزل 1318
اے کاش مرے سر پر اک بار وہ آجاتا
ٹھہرائو سا ہو جاتا یوں جی نہ چلا جاتا
تب تک ہی تحمل ہے جب تک نہیں آتا وہ
اس رستے نکلتا تو ہم سے نہ رہا جاتا
اک آگ لگا دی ہے چھاتی میں جدائی نے
وہ مہ گلے لگتا تو یوں دل نہ جلا جاتا
یا لاگ کی وے باتیں یا ایسی ہے بیزاری
وہ جو نہ لگا لیتا تو میں نہ لگا جاتا
کیا نور کا بکّا ہے چہرہ کہ شب مہ میں
منھ کھولے جو سو رہتا تو ماہ چھپا جاتا
اس شوق نے دل کے بھی کیا بات بڑھائی تھی
رقعہ اسے لکھتے تو طومار لکھا جاتا
یہ ہمدمی کا دعویٰ اس کے لب خنداں سے
بس کچھ نہ چلا ورنہ پستے کو چبا جاتا
اب تو نہ رہا وہ بھی طاقت گئی سب دل کی
جو حال کبھو اپنا میں تم کو سنا جاتا
وسواس نہ کرتا تھا مر جانے سے ہجراں میں
تھا میر تو ایسا بھی دل جی سے اٹھا جاتا
میر تقی میر