ٹھنڈا دل اب ہے ایسا جیسے بجھا دیا ہے

دیوان سوم غزل 1260
سوز دروں نے آخر جی ہی کھپا دیا ہے
ٹھنڈا دل اب ہے ایسا جیسے بجھا دیا ہے
اب نیند کیونکے آوے گرمی نے عاشقی کی
دل ہے جدھر وہ پہلو سارا جلا دیا ہے
حرف غلط تھے کیا ہم صفحے پہ زندگی کے
جو صاف یوں قضا نے ہم کو مٹا دیا ہے
کڑھتے ہمیشہ رہنا ہم کو بغیر اس کے
کیا روگ دوستی نے جی کو لگا دیا ہے
اچرج ہے یہ کہ ہے وہ میرا چراغ تربت
کتنوں کا ورنہ خوں کر ان نے دبا دیا ہے
آنکھوں کی کچھ حیا تھی سو موند لیں ادھر سے
پردہ جو رہ گیا تھا وہ بھی اٹھا دیا ہے
ہم دل زدہ رہے ہیں انواع تلخ سنتے
ان شکریں لبوں نے ہم کو رجھا دیا ہے
جب طول میں دیا ہے نامے کو شوق کے تب
جوں کاغذ ہوائی ان نے اڑا دیا ہے
مرنے ہی کا مہیا اپنے رہا کیا ہوں
واں تیغ اٹھائی ان نے یاں سر جھکا دیا ہے
کیا بے نمک ہوا ہے پروانہ راکھ جل کر
رہ رہ کے ہم جلے تو ہم کو مزہ دیا ہے
تھے جوں چراغ مفلس مضطر نہ ترک تھا جب
بارے فقیری نے تو آرام سا دیا ہے
شہروں کے تنگ کوچے کاہے کو گوں ہیں اپنی
ہم وحشیوں کے قابل رہنے کے بادیہ ہے
نادردمند بلبل نالاں ہے بے تہی سے
دل ہم کو بھی خدا نے دردآشنا دیا ہے
کیا نامہ بر ہمارا ہے صاف بے مروت
خط نانوشتہ ہم کو اودھر سے لا دیا ہے
عالم شکار ہے وہ اس سن میں میر اس کو
ڈھب جان مارنے کا کن نے بتا دیا ہے
میر تقی میر