ٹک گوش رکھیو ایدھر ساتھ اس کے کچھ خبر ہے

دیوان اول غزل 538
نالے کا آج دل سے پھر لب تلک گذر ہے
ٹک گوش رکھیو ایدھر ساتھ اس کے کچھ خبر ہے
اے حب جاہ والو جو آج تاجور ہے
کل اس کو دیکھیو تم نے تاج ہے نہ سر ہے
اب کی ہواے گل میں سیرابی ہے نہایت
جوے چمن پہ سبزہ مژگان چشم تر ہے
اے ہم صفیر بے گل کس کو دماغ نالہ
مدت ہوئی ہماری منقار زیر پر ہے
شمع اخیر شب ہوں سن سرگذشت میری
پھر صبح ہوتے تک تو قصہ ہی مختصر ہے
اب رحم پر اسی کے موقوف ہے کہ یاں تو
نے اشک میں سرایت نے آہ میں اثر ہے
تو ہی زمام اپنی ناقے تڑا کہ مجنوں
مدت سے نقش پا کے مانند راہ پر ہے
ہم مست عشق واعظ بے ہیچ بھی نہیں ہیں
غافل جو بے خبر ہیں کچھ ان کو بھی خبر ہے
اب پھر ہمارا اس کا محشر میں ماجرا ہے
دیکھیں تو اس جگہ کیا انصاف دادگر ہے
آفت رسیدہ ہم کیا سر کھینچیں اس چمن میں
جوں نخل خشک ہم کو نے سایہ نے ثمر ہے
کر میر اس زمیں میں اور اک غزل تو موزوں
ہے حرف زن قلم بھی اب طبع بھی ادھر ہے
میر تقی میر