ٹک آپ بھی تو آیئے یاں زور بائو ہے

دیوان اول غزل 569
دل کی طرف کچھ آہ سے دل کا لگائو ہے
ٹک آپ بھی تو آیئے یاں زور بائو ہے
اٹھتا نہیں ہے ہاتھ ترا تیغ جور سے
ناحق کشی کہاں تئیں یہ کیا سبھائو ہے
باغ نظر ہے چشم کے منظر کا سب جہاں
ٹک ٹھہرو یاں تو جانو کہ کیسا دکھائو ہے
تقریب ہم نے ڈالی ہے اس سے جوئے کی اب
جو بن پڑے ہے ٹک تو ہمارا ہی دائو ہے
ٹپکا کرے ہے آنکھ سے لوہو ہی روز و شب
چہرے پہ میرے چشم ہے یا کوئی گھائو ہے
ضبط سرشک خونیں سے جی کیونکے شاد ہو
اب دل کی طرف لوہو کا سارا بہائو ہے
اب سب کے روزگار کی صورت بگڑ گئی
لاکھوں میں ایک دو کا کہیں کچھ بنائو ہے
چھاتی کے میری سارے نمودار ہیں یہ زخم
پردہ رہا ہے کون سا اب کیا چھپائو ہے
عاشق کہیں جو ہو گے تو جانوگے قدر میر
اب تو کسی کے چاہنے کا تم کو چائو ہے
میر تقی میر