وے بہا سہل جو دیتے ہیں خریدار نہیں

دیوان سوم غزل 1192
دل عجب جنس گراں قدر ہے بازار نہیں
وے بہا سہل جو دیتے ہیں خریدار نہیں
کچھ تمھیں ملنے سے بیزار ہو میرے ورنہ
دوستی ننگ نہیں عیب نہیں عار نہیں
ایک دو بات کبھو ہم سے کہو یا نہ کہو
قدر کیا اپنی ہمیں اس لیے تکرار نہیں
ناز و انداز و ادا عشوہ و اغماض و حیا
آب و گل میں ترے سب کچھ ہے یہی پیار نہیں
صورت آئینے میں ٹک دیکھ تو کیا صورت ہے
بدزبانی تجھے اس منھ پہ سزاوار نہیں
دل کے الجھائو کو کیا تجھ سے کہوں اے ناصح
تو کسو زلف کے پھندے میں گرفتار نہیں
اس کے کاکل کی پہیلی کہو تم بوجھے میر
کیا ہے زنجیر نہیں دام نہیں مار نہیں
میر تقی میر