ویسی دیکھی نہ ایک جا صورت

دیوان سوم غزل 1115
سیر کی ہم نے اٹھ کے تا صورت
ویسی دیکھی نہ ایک جا صورت
منھ لگانا تو درکنار ان نے
نہ کہا ہے یہ آشنا صورت
منھ دکھاتی ہے آرسی ہر صبح
تو بھی اپنی تو ٹک دکھا صورت
خوب ہے چہرئہ پری لیکن
آگے اس کے ہے کیا بلا صورت
کب تلک کوئی جیسے صورت باز
آوے پیاری بنا بنا صورت
ایک دن تو یہ کہہ کہ ملنے کی
تو بھی ٹھہرا کے کوئی لا صورت
حلقے آنکھوں میں پڑ گئے منھ زرد
ہو گئی میر تیری کیا صورت
میر تقی میر