وہ کوئی اور ہیں جو اعتبار پاتے ہیں

دیوان اول غزل 323
بہت ہی اپنے تئیں ہم تو خوار پاتے ہیں
وہ کوئی اور ہیں جو اعتبار پاتے ہیں
تری گلی میں میں رویا تھا دل جلا یک شب
ہنوز واں سے دل داغدار پاتے ہیں
نہ ہوویں شیفتہ کیوں اضطراب پر عاشق
کہ جی کو کھوکے دل بے قرار پاتے ہیں
گلہ عبث ہے تری آستانہ بوسی کا
مسیح و خضر بھی واں کم ہی بار پاتے ہیں
تڑپ ہے قیس کے دل میں تہ زمیں اس سے
غزال دشت نشان مزار پاتے ہیں
وگرنہ خاک ہوئے کتنے ہی محبت میں
کسی کا بھی کہیں مشت غبار پاتے ہیں
شتابی آوے اجل میر جاوے یہ رونا
کہ میرے شور سے تصدیع یار پاتے ہیں
میر تقی میر