وہ سراپا دیکھ کر پردے میں جل جاتی ہے شمع

دیوان پنجم غزل 1647
آتی ہے مجلس میں تو فانوس میں آتی ہے شمع
وہ سراپا دیکھ کر پردے میں جل جاتی ہے شمع
میر تقی میر