وہی دور ہو تو وہی پھر نہ آ تو

دیوان اول غزل 411
وہی مجھ پہ غصہ وہی یاں سے جاتو
وہی دور ہو تو وہی پھر نہ آ تو
مرے اس کے وعدہ ملاقات کا ہے
کوئی روز اے عمر کیجو وفا تو
بہت پوچھیو دل کو میری طرف سے
اگر جائے اس کی گلی میں صبا تو
سفینہ مرا ورطۂ غم سے نکلے
جو ٹک ناخدائی کرے اے خدا تو
سب اسباب ہجراں میں مرنے ہی کے تھے
بھلا میر کیونکر کے جیتا رہا تو
میر تقی میر