ولے دل شرط ہے جو تاب لاوے

دیوان پنجم غزل 1731
بسان برق وہ جھمکے دکھاوے
ولے دل شرط ہے جو تاب لاوے
اڑاتا گڈی وہ باہر نہ آوے
مبادا مجھ کو بھی گڈا بناوے
صبا سے میں جو لگ چل کر گیا واں
ہوا کھاوے کہا آنے نہ پاوے
نزاکت سے بہت ہے کم دماغی
رکھے پگڑی پہ گل تیوری چڑھاوے
بزن گاہ اس کشندے کی گلی ہے
وہی جاوے جو لوہو میں نہاوے
نہ پوچھو فرش رہ کیا ہووے اس کا
جو اہل دل ہو تو آنکھیں بچھاوے
بلا مغرور ہے وہ آتشیں خو
بہت منت کرو تو جی جلاوے
پڑا تڑپا کیا میں دور پہروں
عجب کیا ہے جو پاس اپنے بلاوے
بتان دیر سے ایسی نہیں لاگ
خدا ہی ہو تو کعبے میر جاوے
میر تقی میر