ولے اس کی نایابی نے جان مارا

دیوان چہارم غزل 1342
اگرچہ جہاں میں نے سب چھان مارا
ولے اس کی نایابی نے جان مارا
قیامت کو جرمانۂ شاعری پر
مرے سر سے میرا ہی دیوان مارا
رہائی ہے اس صیدافگن سے مشکل
گیا سانجھ تو صبح پھر آن مارا
لگا آتشیں نالہ شب اپنے دل کو
اس انداز سے جیسے اک بان مارا
قیامت کا عرصہ ہے اے میر درہم
مرے شور و زاری نے میدان مارا
میر تقی میر