وقف اولاد ہے وہ باغ تو غم کاہے کو

دیوان سوم غزل 1228
بہرفردوس ہو آدم کو الم کاہے کو
وقف اولاد ہے وہ باغ تو غم کاہے کو
کہتے ہیں آوے گا ایدھر وہ قیامت رفتار
چلتے پھرتے رہیں گے تب تئیں ہم کاہے کو
یہ بھی اک ڈھب ہے نہ ایذا نہ کسو کو راحت
رحم موقوف کیا ہے تو ستم کاہے کو
نرگس ان آنکھوں کو جو لکھ گئے نابینا تھے
اپنے نزدیک ہیں وے دست قلم کاہے کو
اس کی تلوار سے گر جان کو رکھتے نہ عزیز
مرتے اس خواری سے تو صید حرم کاہے کو
چشم پوشی کا مری جان تمھیں لپکا ہے
کھاتے ہو دیدہ درائی سے قسم کاہے کو
میری آنکھوں پہ رکھو پائوں جو آئو لیکن
رکھتے ہو ایسی جگہ تم تو قدم کاہے کو
دل کو کہتے ہیں کہ اس گنج رواں کا گھر ہے
اس خرابے میں کرے ہے وہ کرم کاہے کو
شور نے نام خدا ان کے بلا سر کھینچا
میر سا ہے کوئی عالم میں علم کاہے کو
میر تقی میر