ورنہ سبھی دیکھا کرتے ہیں اپنے سود و زیاں کی طرف

دیوان پنجم غزل 1652
عشق سے ہم کو نگاہ نہیں کچھ ہائے زیان جاں کی طرف
ورنہ سبھی دیکھا کرتے ہیں اپنے سود و زیاں کی طرف
ازبس مکروہات سے یاں کا مزبلہ زار لبالب ہے
یاں سے گئے پر پھیر کے منھ دیکھا نہ کنھوں نے جہاں کی طرف
صورت کی شیرینی ایسی تلخی زباں کی ایسی کچھ
منھ دیکھے اس کا جو کوئی پھر دیکھے ہے زباں کی طرف
وہ محبوب تو راہ گیا ہے اپنی لیکن دیر تلک
آنکھیں اہل نظر کی رہیں گی اس کے قدم کے نشاں کی طرف
کس سے کہوں جو میر طرف کر اس سے داد دلا دیوے
چھوٹے بڑے ہر ایک نے لی ہے اس اوباش جواں کی طرف
میر تقی میر