وحشت پر جب آتا ہے تو جیسے بگولا جاتا ہے

دیوان پنجم غزل 1754
بات ہماری یاد رہے جی بھولا بھولا جاتا ہے
وحشت پر جب آتا ہے تو جیسے بگولا جاتا ہے
تھوڑے سے پانی میں میں نے سر کھپی کی ہے جیسے حباب
کہتے ہیں بے تہ مجھ کو کیا اپھرا پھولا جاتا ہے
گام کی صورت کیا ہے اس کی راہ چلے ہے میر اگر
دیکھنے والے کہتے ہیں یہ کوئی ہیولا جاتا ہے
میر تقی میر