وحشت بہت تھی طاقت دل ہائے کھو چکے

دیوان دوم غزل 985
دیوانگی میں گاہ ہنسے گاہ رو چکے
وحشت بہت تھی طاقت دل ہائے کھو چکے
افراط اشتیاق میں سمجھے نہ اپنا حال
دیکھے ہیں سوچ کرکے تو اب ہم بھی ہوچکے
کہتا ہے میر سانجھ ہی سے آج درد دل
ایسی کہانی گرچہ نندھی ہے تو سو چکے
میر تقی میر