نہ نکلا کبھو عہدئہ مور سے

دیوان اول غزل 495
ہو عاجز کہ جسم اس قدر زور سے
نہ نکلا کبھو عہدئہ مور سے
بہت دور کوئی رہا ہے مگر
کہ فریاد میں ہے جرس شور سے
مری خاک تفتہ پر اے ابرتر
قسم ہے تجھے ٹک برس زور سے
ترے دل جلے کو رکھا جس گھڑی
دھواں سا اٹھا کچھ لب گور سے
نہ پوچھو کہ بے اعتباری سے میں
ہوا اس گلی میں بتر چور سے
نہیں سوجھتا کچھ جو اس بن ہمیں
بغیر اس کے رہتے ہیں ہم کور سے
جو ہو میر بھی اس گلی میں صبا
بہت پوچھیو تو مری اور سے
میر تقی میر