نہ جاتے اس طرف تو ہاتھ سے اپنے نہ جاتے تم

دیوان پنجم غزل 1681
کہا سنتے تو کاہے کو کسو سے دل لگاتے تم
نہ جاتے اس طرف تو ہاتھ سے اپنے نہ جاتے تم
شکیبائی کہاں جو اب رہے جاتی ہوئی عزت
کدھر وہ ناز جس سے سرفرو ہرگز نہ لاتے تم
یہ حسن خلق تم میں عشق سے پیدا ہوا ورنہ
گھڑی کے روٹھے کو دو دو پہر تک کب مناتے تم
نظر دزدیدہ کرتے ہو جھکی رکھتے ہو پلکوں کو
لگی ہوتیں نہ آنکھیں تو نہ آنکھوں کو چھپاتے تم
یہ ساری خوبیاں دل لگنے کی ہیں مت برا مانو
کسو کا بار منت بے علاقہ کب اٹھاتے تم
پھرا کرتے تھے جب مغرور اپنے حسن پر آگے
کسو سے دل لگا جو پوچھتے ہو آتے جاتے تم
جو ہوتے میر سو سر کے نہ کرتے اک سخن ان سے
بہت تو پان کھاتے ہونٹ غصے سے چباتے تم
میر تقی میر