نہ ایسا کھلا گل نزاکت سے اب تک

دیوان چہارم غزل 1421
رہا پھول سا یار نزہت سے اب تک
نہ ایسا کھلا گل نزاکت سے اب تک
لبالب ہے وہ حسن معنی سے سارا
نہ دیکھا کوئی ایسی صورت سے اب تک
سلیماں ؑ سکندر کہ شاہان دیگر
نہ رونق گئی کس کی دولت سے اب تک
کرم کیا صفت ہے نہ ہوں گو کریماں
سخن کرتے ہیں ان کی ہمت سے اب تک
سبب مرگ فرہاد کا ہو گیا تھا
نگوں ہے سرتیشہ خجلت سے اب تک
ہلا تو بھی لب کو کہ عیسیٰ ؑکے دم کی
چلی جائے ہے بات مدت سے اب تک
عقیق لب اس کے کبھو دیکھے تھے میں
بھرا ہے دہن آب حسرت سے اب تک
گئی عمر ساری مجھے عجز کرتے
نہ مانی کوئی ان نے منت سے اب تک
نہ ہو گو جنوں میرجی کو پر ان کی
طبیعت ہے آشفتہ وحشت سے اب تک
میر تقی میر