نہیں ہے دل کوئی دشمن بغل میں پالا ہے

دیوان دوم غزل 1025
طپش سے رات کی جوں توں کے جی سنبھالا ہے
نہیں ہے دل کوئی دشمن بغل میں پالا ہے
حنا سے یار کا پنجہ نہیں ہے گل کے رنگ
ہمارے ان نے کلیجوں میں ہاتھ ڈالا ہے
گیا ہے پیش لے اعجاز عشق سے فرہاد
وگرنہ خس نے کہیں بھی پہاڑ ٹالا ہے
سنا ہے گریۂ خونیں پہ یہ نہیں دیکھا
لہو کا ہر گھڑی آنکھوں کے آگے نالا ہے
رہے خیال نہ کیوں ایسے ماہ طلعت کا
اندھیرے گھر کا ہمارے وہی اجالا ہے
دلوں کو کہتے ہیں ہوتی ہے راہ آپس میں
طریق عشق بھی عالم سے کچھ نرالا ہے
ہزار بار گھڑی بھر میں میر مرتے ہیں
انھوں نے زندگی کا ڈھب نیا نکالا ہے
میر تقی میر