نگاہیں ہیں میری نظر کی طرف

دیوان چہارم غزل 1416
نظر کیا کروں اس کے گھر کی طرف
نگاہیں ہیں میری نظر کی طرف
چھپاتے ہیں منھ اپنا کامل سے سب
نہیں کوئی کرتا ہنر کی طرف
بڑی دھوم سے ابر آئے گئے
نہ کوئی ہوا چشم تر کی طرف
اندھادھند روتے ہیں آنکھوں سے خون
نہیں دیکھتے ہم جگر کی طرف
رہا بے خبر گرچہ ہجراں میں میر
رہے گوش اس کی خبر کی طرف
میر تقی میر