نظر میں اس کی میں تو بھی نہ آیا

دیوان ششم غزل 1784
فلک نے پیس کر سرمہ بنایا
نظر میں اس کی میں تو بھی نہ آیا
زمانے میں مرے شور جنوں نے
قیامت کا سا ہنگامہ اٹھایا
بلا تھی کوفت کچھ سوز جگر سے
ہمیں تو کوٹ کوٹ ان نے جلایا
تمامی عمر جس کی جستجو کی
اسے پاس اپنے اک دم بھی نہ پایا
نہ تھی بیگانگی معلوم اس کی
نہ سمجھے ہم اسی سے دل لگایا
قریب دیر خضر آیا تھا لیکن
ہمیں رستہ نہ کعبے کا بتایا
حق صحبت نہ طیروں کو رہا یاد
کوئی دو پھول اسیروں تک نہ لایا
غرور حسن اس کا دس گنا ہے
ہمارا عشق اسے کن نے جتایا
عجب نقشہ ہے نقاش ازل نے
کوئی ایسا نہ چہرہ پھر بنایا
علاقہ میر تھا خنجر سے اس کے
ندان اپنا گلا ہم نے کٹایا
میر تقی میر