ناقصوں میں رہیے کیا رہیے تو صاحب دل کے پاس

دیوان پنجم غزل 1630
کوئی دن کریے معیشت جاکسو کامل کے پاس
ناقصوں میں رہیے کیا رہیے تو صاحب دل کے پاس
بوے خوں بھک بھک دماغوں میں چلی آتی ہے کچھ
نکلی ہے ہوکر صبا شاید کسو گھائل کے پاس
شور و ہنگامہ بہت دعویٰ ضروری ہے بہت
کاشکے مجھ کو بلاویں حشر میں قاتل کے پاس
گرد سے ہے ناقۂ سلمیٰ کو مشکل رہروی
خاک کس کی ہے کہ مشتاق آتی ہے محمل کے پاس
تل سے تیرے منھ کے دل تھا داغ اے برناے چرب
خال یہ اک اور نکلا ظالم اگلے تل کے پاس
دل گداز عشق سے سب آب ہوکر بہ گیا
مرگئے پر گور میری کریے تو بے دل کے پاس
ملیے کیونکر نہ کف افسوس جی جاتا ہے میر
ڈوبتی ہے کشتی ورطے سے نکل ساحل کے پاس
میر تقی میر