ناز و نیاز کا جھگڑا ایسا کس کے کنے لے جاوے اب

دیوان پنجم غزل 1574
کب سے صحبت بگڑ رہی ہے کیونکر کوئی بناوے اب
ناز و نیاز کا جھگڑا ایسا کس کے کنے لے جاوے اب
سوچتّے آتے ہیں جی میں پگڑی پر گل رکھے سے
کس کو دماغ رہا ہے اس کے جو حرف خشن اٹھاوے اب
تیغ بلند ہوئی ہے اس کی قسمت ہوں گے زخم رسا
مرد اگر ہے صیدحرم تو کوئی جراحت کھاوے اب
داغ سر و سینے کے میرے حسرت آگیں چشم ہوئے
دیکھیں کیا کیا عشق ستم کش ہم لوگوں کو دکھاوے اب
دم دو دم گھبراہٹ ہوتو ہوسکتا ہے تدارک بھی
جی کی چال سے پیدا ہے سو کوئی گھڑی میں جاوے اب
دل کے داغ بھی گل ہیں لیکن دل کی تسلی ہوتی نہیں
کاشکے دو گلبرگ ادھر سے بائو اڑا کر لاوے اب
اس کے کفک کی پامالی میں دل جو گیا تھا شاید میر
یار ادھر ہو مائل ٹک تو وہ رفتہ ہاتھ آوے اب
میر تقی میر