میں نے ناخن بندی اپنی عشق میں کی ہے ابھی

دیوان چہارم غزل 1497
ان حنائی دست و پا سے دل لگی سی ہے ابھی
میں نے ناخن بندی اپنی عشق میں کی ہے ابھی
ہاتھ دل پر زور سے اپنے نہ رکھا چاہیے
چاک کی چھاتی مری جراح نے سی ہے ابھی
ایک دم دکھلائی دیتا بھی تو مرتے آ کہیں
شوق سے آنکھوں میں کوئی دم مرا جی ہے ابھی
دیکھیں اک دو دم میں کیونکر تیغ اس کی ہو بلند
کوئی خوں ریز ان نے اپنی میان سے لی ہے ابھی
کس طرح ہوں معتقد ہم اتقاے شیخ کے
صبح کو رسم صبوحی سے تو مے پی ہے ابھی
آگے کب کب اٹھتے تھے سنّاہٹے سے باغ میں
طرز میرے نالے کی بلبل نے سیکھی ہے ابھی
زیر دیوار اس کے کس امید پر تو میر ہے
ایک دو نے جان اس دروازے پر دی ہے ابھی
میر تقی میر