میں اٹھ گیا ولے نہ اٹھا بیچ سے حجاب

دیوان دوم غزل 774
تابوت پر بھی میرے نہ آیا وہ بے نقاب
میں اٹھ گیا ولے نہ اٹھا بیچ سے حجاب
اس آفتاب حسن کے جلوے کی کس کو تاب
آنکھیں ادھر کیے سے بھر آتا ہے ووہیں آب
اس عمر برق جلوہ کی فرصت بہت ہے کم
جو کام پیش آوے تجھے اس میں ہو شتاب
غفلت سے ہے غرور تجھے ورنہ ہے بھی کچھ
یاں وہ سماں ہے جیسے کہ دیکھے ہے کوئی خواب
اس موج خیز دہر نے کس کے اٹھائے ناز
کج بھی ہوا نہ خوب کلہ گوشۂ حباب
یہ بستیاں اجڑ کے کہیں بستیاں بھی ہیں
دل ہو گیا خراب جہاں پھر رہا خراب
بیتابیاں بھری ہیں مگر کوٹ کوٹ کر
خرقے میں جیسے برق ہمارے ہے اضطراب
ٹک دل کے نسخے ہی کو کیا کر مطالعہ
اس درس گہ میں حرف ہمارا ہے اک کتاب
مجنوں نے ریگ بادیہ سے دل کے غم گنے
ہم کیا کریں کہ غم ہیں ہمارے تو بے حساب
کاش اس کے روبرو نہ کریں مجھ کو حشر میں
کتنے مرے سوال ہیں جن کا نہیں جواب
شاید کہ ہم کو بوسہ بہ پیغام دست دے
پھرتا ہے بیچ میں تو بہت ساغر شراب
ہے ان بھوئوں میں خال کا نقطہ دلیل فہم
کی ہے سمجھ کے بیت کسو نے یہ انتخاب
گذرے ہے میر لوٹتے دن رات آگ میں
ہے سوز دل سے زندگی اپنی ہمیں عذاب
میر تقی میر