مہکتا ہو نپٹ جو پھول سی دارو سے میخانا

دیوان اول غزل 84
یہ حسرت ہے مروں اس میں لیے لبریز پیمانا
مہکتا ہو نپٹ جو پھول سی دارو سے میخانا
نہ وے زنجیر کے غل ہیں نہ وے جرگے غزالوں کے
مرے دیوان پن تک ہی رہا معمور ویرانا
مرا سر نزع میں زانو پہ رکھ کر یوں لگا کہنے
کہ اے بیمار میرے تجھ پہ جلد آساں ہو مرجانا
نہ ہو کیوں ریختہ بے شورش و کیفیت و معنی
گیا ہو میر دیوانہ رہا سوداؔ سو مستانا
میر تقی میر