مہر کی رکھ کر توقع جی کھپایا ہے عبث

دیوان پنجم غزل 1588
دل کو اس بے مہر سے ہم نے لگایا ہے عبث
مہر کی رکھ کر توقع جی کھپایا ہے عبث
دیکھ کر اس کو کھڑے سوجی سے ہم عاشق ہوئے
بیٹھے بیٹھے ناگہاں یہ رنج اٹھایا ہے عبث
اپنی تو بگڑی ہی کوئی کام کی صورت نہیں
ان نے بے لطفی سے منھ اچھا بنایا ہے عبث
جی کے جاتے وہ جو نو خط آتا تو بابت بھی تھی
لطف کر مردے پہ عاشق کے اب آیا ہے عبث
تب تو خانہ باغ سے اپنے نہ پوچھی بات بھی
کیا جو تربت پر مری اب پھول لایا ہے عبث
رات دن سنتا ہے نالے یوں نہیں کہتا کبھو
میر دل آزردہ کو کن نے ستایا ہے عبث
میر تقی میر