مگر اور تھے تب ہوئے ہو اب اور

دیوان دوم غزل 812
نئے طور سیکھے نکالے ڈھب اور
مگر اور تھے تب ہوئے ہو اب اور
ادا کچھ ہے انداز کچھ ناز کچھ
تہ دل ہے کچھ اور زیر لب اور
لب سرخ کو ٹک دکھاتے نہیں
طرح پان کھانے کی تھی کچھ جب اور
نہ گرمی نہ جوشش نہ اب وہ تپاک
تکلف نہیں اس میں تھے تم تب اور
زمانہ مرا کیونکے یکساں رہے
اٹھاویں گے تیرے ستم یہ کب اور
جدا اتفاقاً رہا ایک میر
وگرنہ ملے یوں تو اس سے سب اور
میر تقی میر