موتی گویا جڑے ہیں مینے پر

دیوان اول غزل 222
خط میں ہے کیا سماں پسینے پر
موتی گویا جڑے ہیں مینے پر
کوئی ہوتا ہے دل طپش سے برا
ایک دم کے لہو نہ پینے پر
دل سے میرے شکستیں الجھی ہیں
سنگ باراں ہے آبگینے پر
چاک سینے سے کھل گئے ٹانکے
کیا رفو کم ہوا ہے سینے پر
جور دلبر سے کیا ہوں آزردہ
میر اس چار دن کے جینے پر
میر تقی میر