منزل کو عاشق اپنے مقصد کی جا نہ پہنچے

دیوان دوم غزل 966
گر ناز سے وہ سر پر لے تیغ آ نہ پہنچے
منزل کو عاشق اپنے مقصد کی جا نہ پہنچے
جیتے رہیں گے کیونکر ہم اے طبیب ناداں
بیمار ایسے تس پر مطلق دوا نہ پہنچے
لائق ترے نہیں ہے خصمی غیر لیکن
وہ باز کیونکے آوے جب تک سزا نہ پہنچے
ہر چند بہر خوباں سر مسجدوں میں مارے
پر ان کے دامنوں تک دست دعا نہ پہنچے
بن آہ دل کا رکنا بے جا نہیں ہمارا
کیا حال ہووے اس کا جس کو ہوا نہ پہنچے
اپنے سخن کی اس سے کس طور راہ نکلے
خط اس طرف نہ جاوے قاصد گیا نہ پہنچے
وہ میر شاہ خوبی پھر قدر دور اس کی
درویش بے نوا کی اس تک صدا نہ پہنچے
میر تقی میر