ملنا اپنا جو ہوا اس سے سو وہ بات کی بات

دیوان دوم غزل 778
دیر کچھ کھنچتی تو کہتے بھی ملاقات کی بات
ملنا اپنا جو ہوا اس سے سو وہ بات کی بات
گفتگو شاہد و مے سے ہے نہ غیبت نہ گلہ
خانقہ کی سی نہیں بات خرابات کی بات
سن کے آواز سگ یار ہوئے ہم خاموش
بولتے واں ہیں جہاں ہووے مساوات کی بات
منھ ادھر اور سخن زیرلبی غیر کے ساتھ
اس فریبندہ کی ناگفتنی ہے گھات کی بات
اس لیے شیخ ہے چپکا کہ پڑے شہر میں شور
ہم سمجھتے ہیں یہ شیادی و طامات کی بات
یہ کس آشفتہ کی جمعیت دل تھی منظور
بال بکھرے ترے منھ پر کہیں ہیں رات کی بات
گفتگو وصفوں سے اس ماہ کے کریے اے میر
کاہش افزا ہے کروں اس کی اگر ذات کی بات
میر تقی میر