ملا کے آنکھیں دروغ کہنا کہاں تلک کچھ حیا کرو اب

دیوان چہارم غزل 1358
خلاف وعدہ بہت ہوئے ہو کوئی تو وعدہ وفا کرو اب
ملا کے آنکھیں دروغ کہنا کہاں تلک کچھ حیا کرو اب
خیال رکھیے نہ سرکشی کا سنو ہو صاحب کہ پیری آئی
خمیدہ قامت بہت ہوا ہے جھکائے سر ہی رہا کرو اب
کہاں ہے طاقت جو میر کا دل سب ان بلائوں کی تاب لاوے
کرشمے غمزے کو ناز سے ٹک ہماری خاطر جدا کرو اب
میر تقی میر