معشوق کا ہے حسن اگر دل نواز ہو

دیوان اول غزل 389
خوبی یہی نہیں ہے کہ انداز و ناز ہو
معشوق کا ہے حسن اگر دل نواز ہو
سجدے کا کیا مضائقہ محراب تیغ میں
پر یہ تو ہو کہ نعش پہ میری نماز ہو
اک دم تو ہم میں تیغ کو تو بے دریغ کھینچ
تا عشق میں ہوس میں تنک امتیاز ہو
نزدیک سوز سینہ سے رکھ اپنے قلب کو
وہ دل ہی کیمیا ہے جو گرم گداز ہو
ہے فرق ہی میں خیر نہ کر آرزوے وصل
مل بیٹھیے جو اس سے تو شکوہ دراز ہو
جوں توں کے اس کی چاہ کا پردہ کیا ہے میں
اے چشم گریہ ناک نہ افشاے راز ہو
جوں چشم بسملی نہ مندی آوے گی نظر
جو آنکھ میرے خونی کے چہرے پہ باز ہو
ہم سے تو غیرعجز کبھو کچھ بنا نہ میر
خوش حال وہ فقیر کہ جو بے نیاز ہو
میر تقی میر