معشوق بھی ہمارا محبوب آدمی ہے

دیوان اول غزل 625
ہنس دے ہے دیکھتے ہی کیا خوب آدمی ہے
معشوق بھی ہمارا محبوب آدمی ہے
انسان ہو جو کچھ ہے ادراک سرلولاک
ناداں زمیں زماں سے مطلوب آدمی ہے
میر تقی میر