مطلق نہیں ہم سے ساز تیرا

دیوان دوم غزل 728
اللہ رے غرور و ناز تیرا
مطلق نہیں ہم سے ساز تیرا
ہم سے کہ تجھی کو جانتے ہیں
جاتا نہیں احتراز تیرا
مل جن سے شراب تو پیے ہے
کہہ دیتے ہیں وہ ہی راز تیرا
کچھ عشق و ہوس میں فرق بھی کر
کیدھر ہے وہ امتیاز تیرا
کہتے نہ تھے میر مت کڑھاکر
دل ہو نہ گیا گداز تیرا
میر تقی میر