مشتاق منھ مرا ہے اسی رنگ زرد کا

دیوان اول غزل 159
تھا زعفراں پہ ہنسنے کو دل جس کی گرد کا
مشتاق منھ مرا ہے اسی رنگ زرد کا
کیا ڈر اسے ہے گرمی خورشید حشر سے
سایہ پڑا ہے جس پہ مری آہ سرد کا
میر تقی میر