مسلماں بھی خدا لگتی نہیں کہتے قیامت ہے

دیوان سوم غزل 1304
بتوں کے جرم الفت پر ہمیں زجرو ملامت ہے
مسلماں بھی خدا لگتی نہیں کہتے قیامت ہے
کھڑا ہوتا نہیں وہ رہزن دل پاس عاشق کے
موافق رسم کے اک دور کی صاحب سلامت ہے
جھکی ہے شاخ پرگل ناز سے کیا صحن گلشن میں
نہال قد کی اس کے مدعی تھی سو ندامت ہے
نکلتا ہے سحر خورشید ہر روز اس کے گھر پر سے
مقابل ہو گیا اس سے تو اس سادہ کی شامت ہے
پیے دارو پڑے پھرتے تھے کل تک میر کوچوں میں
انھیں کو مسجد جامع کی دیکھی آج امامت ہے
میر تقی میر