مستی میں میری تھا یاں اک شور اور شرابا

دیوان اول غزل 60
پھوٹا کیے پیالے لنڈھتا پھرا قرابا
مستی میں میری تھا یاں اک شور اور شرابا
حکمت ہے کچھ جو گردوں یکساں پھرا کرے ہے
چلتا نہیں وگرنہ شام و سحر عرابا
باہم ہوا کریں ہیں دن رات نیچے اوپر
یہ نرم شانے لونڈے ہیں مخمل دو خوابا
ان صحبتوں میں آخر جانیں ہی جاتیاں ہیں
نے عشق کو ہے صرفہ نے حسن کو محابا
ہر چند ناتواں ہیں پر آگیا جو جی میں
دیں گے ملا زمیں سے تیرا فلک قلابا
وے دن گئے کہ آنکھیں دریا سی بہتیاں تھیں
سوکھا پڑا ہے اب تو مدت سے یہ دوآبا
منھ دھوتے وقت اس کے اکثر دکھائی دے ہے
خورشید لے رہا ہے اک روز آفتابا
اب شہر ہر طرف سے میدان ہو گیا ہے
پھیلا تھا اس طرح کا کاہے کو یاں خرابا
دل تفتگی کی اپنی ہجراں میں شرح کیا دوں
چھاتی تو میر میری جل کر ہوئی ہے تابا
میر تقی میر