مستجمع جمیع صفات و کمال کا

دیوان پنجم غزل 1534
دل رفتۂ جمال ہے اس ذوالجلال کا
مستجمع جمیع صفات و کمال کا
ادراک کو ہے ذات مقدس میں دخل کیا
اودھر نہیں گذار گمان و خیال کا
حیرت سے عارفوں کو نہیں راہ معرفت
حال اور کچھ ہے یاں انھوں کے حال و قال کا
ہے قسمت زمین و فلک سے غرض نمود
جلوہ وگرنہ سب میں ہے اس کے جمال کا
مرنے کا بھی خیال رہے میر اگر تجھے
ہے اشتیاق جان جہاں کے وصال کا
میر تقی میر