مری بخت آزمائی ہوچکی بس

دیوان سوم غزل 1143
امیروں تک رسائی ہوچکی بس
مری بخت آزمائی ہوچکی بس
بہار اب کے بھی جو گذری قفس میں
تو پھر اپنی رہائی ہوچکی بس
کہاں تک اس سے قصہ قضیہ ہر شب
بہت باہم لڑائی ہوچکی بس
نہ آیا وہ مرے جاتے جہاں سے
یہیں تک آشنائی ہوچکی بس
لگا ہے حوصلہ بھی کرنے تنگی
غموں کی اب سمائی ہوچکی بس
برابر خاک کے تو کر دکھایا
فلک بس بے ادائی ہوچکی بس
دنی کے پاس کچھ رہتی ہے دولت
ہمارے ہاتھ آئی ہوچکی بس
دکھا اس بت کو پھر بھی یا خدایا
تری قدرت نمائی ہوچکی بس
شرر کی سی ہے چشمک فرصت عمر
جہاں دی ٹک دکھائی ہوچکی بس
گلے میں گیروی کفنی ہے اب میر
تمھاری میرزائی ہوچکی بس
میر تقی میر