مرنا پڑا ضرور ترے غم میں اب مجھے

دیوان اول غزل 590
دن کو نہیں ہے چین نہ ہے خواب شب مجھے
مرنا پڑا ضرور ترے غم میں اب مجھے
ہنگامہ میری نعش پہ تیری گلی میں ہے
لے جائیں گے جنازہ کشاں یاں سے کب مجھے
ٹک داد میری اہلمحلہ سے چاہیو
تجھ بن خراب کرتے رہے ہیں یہ سب مجھے
طوفاں بجاے اشک ٹپکتے تھے چشم سے
اے ابر تر دماغ تھا رونے کا جب مجھے
دو حرف اس کے منھ کے تو لکھ بھیجیو شتاب
قاصد چلا ہے چھوڑ کے تو جاں بلب مجھے
کچھ ہے جواب جو میں کروں حشر کو سوال
مارا تھا تونے جان سے کہہ کس سبب مجھے
غیراز خموش رہنے کہ ہونٹوں کے سوکھنے
لیکن نہیں ہے یار جھگڑنے کا ڈھب مجھے
پوچھا تھا راہ جاتے کہیں ان نے میر کو
آتا ہے اس کی بات کا اب تک عجب مجھے
میر تقی میر