مرنا عاشق کا بہانہ ہو گیا

دیوان پنجم غزل 1559
بات کہتے جی کا جانا ہو گیا
مرنا عاشق کا بہانہ ہو گیا
جاے بودن تو نہ تھی دنیاے دوں
اتفاقاً اپنا آنا ہو گیا
ماہ اس کو کہہ کے سارے شہر میں
مجھ کو مشکل منھ دکھانا ہو گیا
کر رکھا تعویذ طفلی میں جسے
اب سو وہ لڑکا سیانا ہو گیا
اس بلا سے آہ میں غافل رہا
یک بہ یک دل کا لگانا ہو گیا
کنج لب سے یار کے اچٹا نہ ٹک
الغرض دل کا ٹھکانا ہو گیا
رفتہ رفتہ اس پری کے عشق میں
میر سا دانا دوانہ ہو گیا
میر تقی میر