مداوا سے مرض گذرا کہو اب میر کیا کریے

دیوان اول غزل 635
چلی جاتی ہی نکلی جان ہے تدبیر کیا کریے
مداوا سے مرض گذرا کہو اب میر کیا کریے
نہ رکھا کرکے زنجیری پریشاں دل ہمارے کو
ہوئی یہ اب تو تیری زلف سے تقصیر کیا کریے
کریں استادگی آیا تھا جی پہ قتل ہونے میں
یہ اپنا کام ہے قاتل یہ اس کو دیر کیا کریے
نہیں آتا ہے کوئی ڈھب ہمیں آسودہ ہونے میں
بھلا تو ہی بتا اے خاطر دلگیر کیا کریے
میر تقی میر