محل رحم ہوویں کس طرح مظلوم ہم تیرے

دیوان چہارم غزل 1509
نہ خاطر پر الم تیرے نہ دل پر کچھ ستم تیرے
محل رحم ہوویں کس طرح مظلوم ہم تیرے
جو ٹک بھی سایہ گستر ہو گا تو اس خشک مزرع پر
بہت ہم ہوں گے احساں مند اے ابر کرم تیرے
انھیں کی طبع جان میر مائل ہو گی سنبل کی
نہیں دیکھے جنھوں نے گیسوے پرپیچ و خم تیرے
میر تقی میر